اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 365 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 365

365 اس قدرمت خموش جان ہمیں بے زبانی بھی ہے زبان ہمیں ہم ہیں افراد غم قبیلے کے ہو مبارک یہ خاندان ہمیں قریۂ جاں میں، کوچۂ دل میں کوئی دلوائیے مکان ہمیں ہم موذن ہیں عہد کے لیکن کوئی دینے بھی دے اذان ہمیں پھول خوشبو کے تھے سفیر مگر دے گئے لمس کی تکان ہمیں کس نے آنکھیں بنا کے پھینک دیا اتنے چہروں کے درمیان ہمیں ق اس قدر بدگمانیوں کے بعد کیا کہے گا وہ بدگمان ہمیں کر لیا اس نے شہر پر قبضہ بانٹ کر شہر کے مکان ہمیں چھین کر لے گیا سفر کا شعور دے گیا راہ کی تکان ہمیں ہجر میں ہے وصال کی لذت ارض ربوہ ہے قادیان ہمیں اس کو لکھا ہے ہم نے پلکوں سے حفظ ہے ساری داستان ہمیں ہم بغلگیر ہیں ستاروں سے ہنس کے ملتا ہے آسمان ہمیں دائیں بائیں کا فرق ہے پیارے! تو اسے مان لے یا مان ہمیں اب تو تن کی خبر نہیں مضطر ! کبھی من کا تھا گیان دھیان ہمیں۔