اشکوں کے چراغ — Page 366
366 اپنے مرتبے کو کم نہ کرنا سر مقتل بھی گردن خم نہ کرنا وہ آئیں یا نہ آئیں، غم نہ کرنا دیے کی کو کبھی مدھم نہ کرنا ستارے کہہ رہے ہیں صبح نو سے ہماری موت کا ماتم نہ کرنا میں اپنے آپ سے ٹکرا نہ جاؤں مجھے میرا کبھی محرم نہ کرنا اندھیرے میں نظر آنے لگوں گا چراغوں کو ابھی مدھم نہ کرنا تصوّر سے سدا لڑنا جھگڑنا مگر تصویر کو برہم نہ کرنا کلی ہے اور مسلسل مسکراہٹ اسے راس آ گیا ہے غم نہ کرنا ہے۔اگر زندگی مطلوب مضطر ! ہے صداؤں میں صدا مدغم نہ کرنا