اشکوں کے چراغ — Page 359
359 ناداں! ناحق کیوں گھبراتا ہے یہ رستہ منزل کو جاتا ہے بات بنائے سے نہیں بنتی ہے دل جب آتا ہے آ جاتا ہے مت مایوس ہو اس کی رحمت سے وہ داتا تو سب کا داتا ہے ہواس عہد نے جو تصویر بنائی ہے اس کا ہم دونوں سے ناتا ہے ہم سب اس کی کوکھ سے نکلے ہیں یہ دھرتی تو دھرتی ماتا ہے تو گھبراتا ہے آئینے سے آئینہ تجھ سے گھبراتا ہے سب لمحے زندہ ہو جاتے ہیں وہ لمحہ جب ملنے آتا ہے ہم اس عہد کے اندر رہتے ہیں تو جس کی تفصیل بتاتا ہے وہ مالک ہے اپنی مرضی کا جب چاہے چہرہ دکھلاتا ہے غربت میں اس گل کے تصور سے خوشبو سے کمرہ بھر جاتا ہے منظر بھی کتنا خوش قسمت ہے غصہ پیتا ہے، غم کھاتا ہے (اگست،۱۹۸۸ء)