اشکوں کے چراغ — Page 350
350 کرنوں نے جگا دیا زمیں کو محتاج تھا قافلہ جرس کا اندازہ نہیں تھا منزلوں کو آہستہ رووں کی دسترس کا آیات کی ہو رہی ہے بارش نظارہ ہے دیدنی قفس کا سب شہر تری گرفت میں ہیں پنڈی ہو، لہور ہو کہ ڈسکہ بدلا ہے مکان جب سے مضطر ! رستہ ہی بدل گیا ہے بس کا