اشکوں کے چراغ — Page 328
328 جس کے نصیب میں ہو ” کھلے شہر“ کی صلیب اس خوش نصیب کی ہو خوشی کا ٹھکانہ کیا اس کو کرو کمال اتاترک کے سپرد ملا کو آزمانے کے بعد آزمانا کیا اک زلزلہ سا آ گیا ایوانِ اشک میں مضطر پہ مہرباں ہوا دشمن پرانا کیا
by Other Authors
328 جس کے نصیب میں ہو ” کھلے شہر“ کی صلیب اس خوش نصیب کی ہو خوشی کا ٹھکانہ کیا اس کو کرو کمال اتاترک کے سپرد ملا کو آزمانے کے بعد آزمانا کیا اک زلزلہ سا آ گیا ایوانِ اشک میں مضطر پہ مہرباں ہوا دشمن پرانا کیا