اشکوں کے چراغ — Page 312
312 کفر کا الزام میرے نام تھا کون کہتا ہے کہ میں ناکام تھا کوئے جاناں اور جاں کے درمیاں فاصلہ تھا بھی تو یک دو گام تھا جانے کیوں خاموش تھے چھوٹے بڑے گفتگو کا یوں تو اذنِ عام تھا اب لیے پھرتا ہوں اپنے اپنے آپ کو مجھ کو سولی پر بہت آرام تھا سائے لمبے ہو رہے تھے شہر کے تھک گئے تھے پیٹر، وقت شام تھا