اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 248 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 248

248 حضرت مصلح موعود کی یورپ سے تشریف آوری پر جشن ملت کے موقع پر آنسوؤں کی بھری بہار کے بعد چاند نکلا ہے انتظار کے بعد پھول ہیں یا کسی کے نقش قدم اک بہار آئی ہے بہار کے بعد گول بازار میں چراغاں ہے داغ کو دے اٹھے شمار کے بعد عظمتوں کو عظیم تر پایا سر اٹھایا جو انکسار کے بعد بات دل کی زباں پہ آ نہ سکی یار آیا تھا انتظار کے بعد حال مضطر کا غیر تھا کب سے ہے وصل یار کے بعد آج بہتر