اشکوں کے چراغ — Page 237
237 ہے التفات نگاه یار تو تیر اک دل کے آر پار تو ہے سینہ غم سے مرا نگار تو اپنے ہونے کا اعتبار تو ہے ہے پھر کوئی آ رہا ہے جانب دل دُور اُفق سے پرے غبار تو ہے آپ الگ بات درگزر نہ کریں کو اس کا اختیار تو ہے یہ بھی کیا کم ہے بلبل ناداں! موسم گل تو ہے، بہار تو ہے دوستی کے اگر نہیں قابل دشمنوں میں مرا شمار تو ہے غم جاناں ہو یا غم دنیا آدمی غم سے ہمکنار تو ہے