اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 198 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 198

198 ایک عیار ہے دل ناداں بھیس ہیں اس کے بے حساب بہت مسکرا کر ملا کرو ہم اس کا ہو گا تمھیں ثواب بہت اور بھی پھول ہوں گے دنیا میں ہم کو ہے ایک ہی گلاب بہت مسکرانے بھی انھیں مضطر ! دے کر نہ زخموں کا احتساب بہت