اشکوں کے چراغ — Page 195
195 بَغْتَةً وہ اگر گیا ہو گا راکھ بن کر بکھر گیا ہو گا اپنا انجام دیکھ کر اس کا ملتمع اُتر گیا ہو گا مٹ گئے ہوں گے عہد کے آثار ستمگر جدھر گیا ہو گا وہ دیکھ کر میری مسکراہٹ کو اس کا چہرہ اُتر گیا ہو گا اپنے انجام پر نظر کر کے پہلے مر و گا اس نے دیکھا تو ہو گا آئینہ لوٹ کر جب وہ گھر گیا ہو گا مجھ کو خبروں سے مارنے والا مر گیا ہو گا سر اخبار مر گیا زر آواز کوٹنے کے بعد دن دہاڑے مکر گیا ہو گا