اشکوں کے چراغ — Page 194
194 روز ناموں کا نامہ اعمال میری خبروں سے بھر گیا ہو گا عہد غم میں نہ جانے کس کس کی جاں گئی ہو گی، سر گیا ہو گا اس میں خنجر کا کچھ کمال نہیں زخم خود بن سنور گیا ہو گا آؤ دریا کی سیر کر آئیں تو پانی اُتر گیا ہو گا اب نہیں ایسا نہ ہو چھلک جائے صبر کا جام بھر گیا ہو گا منه سے بولا نہیں اگر مضطر کچھ اشارہ تو کر گیا ہو گا