اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 184 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 184

184 اس شہر انتخاب کے پتھر اٹھا لیے واللہ ہم نے لعل و جواہر اٹھا لیے گھر سے چلے تو خاک وطن سر پہ ڈال لی پلکوں پہ جیتے جاگتے منظر اٹھا لیے پت جھڑ کے زرد شور میں بادِ شمال نے افتادگان ماہ دسمبر اٹھا لیے بزم شعورِ ذات کے مندنشین ہیں وہ غم جو لاشعور سے لے کر اٹھا لیے اس شہر بے قرار کے حالات دیکھ کر آسودگان شہر نے بستر اٹھا لیے چہرے کی تیز دھوپ میں چہرہ لپیٹ کر زلف سیاه یار کے اثر در اٹھا لیے تن کی چتا سے عقل کی عیار آنکھ نے جلتے ہوئے جمال کے پیکر اٹھا لیے دار و رسن کے مذہب و آئین کے خلاف ہم جا چکے تو آپ نے پتھر اٹھا لیے صدمے جو بھول کر بھی اٹھائے نہ تھے کبھی عہدِ غم فراق میں مضطر ! اٹھا لیے