اشکوں کے چراغ — Page xxii
19 چھائے ہوئے تھے۔کمیونزم کے نعرے لگ رہے تھے۔ہم بھی اسی کی لپیٹ میں آگئے تھے۔یہ داستان لمبی ہے۔یہاں تفصیل کی گنجائش نہیں۔اسی زمانے میں خوش قسمتی سے حضرت قاضی محمد اسلم مرحوم و مغفور سے ملاقات ہوگئی۔۱۹۳۹ء کے جلسہ سالانہ میں چُھپ کر شمولیت کا موقع ملا اور زندگی بھر کی سوچ بدل گئی۔انھی دنوں میں حسن مطلق پر ایک طویل نظم لکھی۔استاذی المکرم صوفی غلام مصطفی تبسم مرحوم نے اس میں ایک تبدیلی فرمائی۔”اے مُست رو محبت ! “ کی بجائے ”اے مست رو محبت !“ کر دیا اور حکماً گورنمنٹ کالج کی بزمِ اقبال کے سالانہ جلسے میں پڑھوائی ، حالانکہ کوئی شعری پروگرام نہیں رکھا گیا تھا۔تین شعر یا درہ گئے ہیں جو یوں تھے۔اے جانِ حسن مطلق ! اے حسن آسمانی! اے مست رو محبت! اے تیز رو جوانی! مریم کی روح تجھ میں تحلیل ہو رہی ہے انسانیت کی پھر سے تشکیل ہو رہی ہے روح الا میں بھی تیری نظروں کو چومتا ہے سارا جہان تیرے چوگرد گھومتا ہے ۱۹۴۰ء میں حضرت امام مہدی ومسیح موعود علیہ السلام کے جانشین سیدنا مصلح موعود خلیفتہ اسیح الثانی نور اللہ مرقدہ کے دست مبارک پر بیعت کا شرف حاصل ہوا۔اس کے بعد کی داستان اسی عشق کی داستان ہے۔ہر چند کہ بد نام کننده نکونامے چند ہوں، اللہ تعالی کی ستاری و غفاری کے کرشمے ہیں کہ مجھ غریب پر میری نااہلی اور نادانی کے باوصف قدرت ثانیہ کے مظہر ثانی ، مظہر ثالث ، مظہر رابع ) نَورَ اللَّهُ مَرْقَدَهُمْ ) اور اب مظہر خامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے الطاف کریمانہ کی بے پایاں اور مسلسل بارش ہے کہ تھمنے کا نام نہیں لے رہی۔