اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page xxi of 679

اشکوں کے چراغ — Page xxi

۱۸ شغف ضرور پیدا ہو گیا۔۱۹۳۵ء میں سید صاحب ہی کے ایما پر میٹرک کے امتحان کے فارم میں اپنا نام محمد علی جناح لکھا۔اسی زمانے میں یہ نظم ہو گئی ، جو فیروز پور سے شائع ہونے والے ہفت روزہ زمیندار میں شائع ہوئی۔یہ نظم کسی نہ کسی بہانے ہر آنے والے مہمان کو پڑھنی پڑتی تھی۔چاندنی چھٹکی ہوئی تھی، تھا بہت اجلا سماں محفل انجم سے تھا معمور سارا آسماں کیا چرندے، کیا پرندے، محو تھے سب خواب میں واللہ اعلم کس طرح میں جاگ اُٹھا نا گہاں تھا سماں ایسا کہ جس سے نیند کو آجائے نیند خامشی کے بحر میں ڈوبا ہوا تھا سب جہاں دیکھ کر قدرت خدا کی ہو گیا میں بے قرار ڈوب گہری سوچ میں کہنے لگا زیر زباں چل رہا ہے کا ر قدرت روز و شب بے روک ٹوک یہ پتا چلتا نہیں کہ منتظم خود ہے کہاں پاس سے آواز آئی، اس قدر کیوں پاس ہے بے خبر ! جس کا تلاشی تو ہے تیرے پاس ہے یہ وہ زمانہ تھا جب ماہوار نہیں تو ہر دوسرے مہینے مخلص تبدیل کیا جا تا تھا۔منظر عارفی برادرم عزیزم راجہ غالب احمد صاحب کی عنایت ہے اور یہ تقسیم ملک کے بعد کی بات ہے۔عارفی ہمارے جد امجد محمد عارف کی نسبت سے ہے۔کالج کا زمانہ بہت ہنگامہ خیز رہا۔یہ انگریز دشمنی کا زمانہ تھا۔جوش اور احسان دانش