اشکوں کے چراغ — Page 47
47 گلشن سے وہ جب نکل رہا تھا جو پیڑ تھا ہاتھ مل رہا تھا پروا تھی نہ اس کو ڈر کسی کا سورج سرِ عام ڈھل رہا تھا غصے کو تو پی چکا تھا پاگل اشکوں کو بھی اب نگل رہا تھا نادان تھا اس قدر کہ اب بھی ماضی کے لیے مچل رہا تھا آیا تھا سمندروں سے مل کر ساحل کی طرح سنبھل رہا تھا منزل بھی قریب آ گئی تھی رستہ بھی لہو اگل رہا تھا چہرے تو بدل چکے تھے سارے منظر ہی نہیں بدل رہا تھا