اشکوں کے چراغ — Page 600
600 اگر ہو اذن تو فردِ عمل کو میں چھپ کر آنکھ کے پانی سے دھولوں محبت راز ہے اور سوچتا ہوں کہ میں یہ راز کھولوں یا نہ کھولوں تمہارے نام کا دامن پکڑ کر میں سولی پر بھی گھبراؤں نہ ڈولوں مجھے آتے ہیں آداب جنوں بھی ہنسوں محفل میں تنہائی میں رو لوں میں اپنی سوچ میں دشتِ وفا کا کوئی کانٹا کوئی کنکر چھو لوں یہ بزمِ یار کی خوشبو ہے مضطر اسے میں جسم اور جاں میں سمو لوں