اشکوں کے چراغ — Page 599
599 میں پہلے دل کی دیواروں کو دھو لوں پھر اس کے بعد ہمت ہو تو بولوں تقاضا کر رہی ہے تن کی مٹی کہ اب زیر زمیں کچھ دیر سو لوں میں اکثر دل ہی دل میں سوچتا ہوں کہ سولی پر بھی بولوں یا نہ بولوں پر مسلسل ہو رہی ہے ہو رہی ہے دل پہ دستک مگر میں ہوں کہ دروازہ نہ کھولوں میں کیوں شکوہ کروں فرقت کی شب کا میں کیوں اس انگبیں میں زہر گھولوں تیری یاد کے آنسو ہیں ان کو چھپا لوں اور پلکوں میں پرو لوں محبت کی زباں آتی ہے مجھ کو میں سب کہہ دوں مگر منہ سے نہ بولوں