اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 17 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 17

17 تان کر چہروں کی چادر دھوپ کو ٹھنڈا کیا دم اگر گھٹنے لگا تو ہاتھ سے پنکھا کیا کھٹکھٹانے پر بھی دل کا وا نہ دروازہ کیا ہم نے ہر حالت میں اپنے آپ سے پردہ کیا مشتعل چہرے اندھیری رات میں جلتے رہے بوند پانی کی نہ برسی، شہر نے فاقہ کیا لوگ دیواروں کے رستے انجمن میں آگئے خود بھی رسوا ہو گئے، اوروں کو بھی رسوا کیا تیری دنیا دائره در دائره در دائره دائروں کے دیس میں ہم نے سفر تنہا کیا رات کو شیشہ دکھا کر شہر کی تصویر لی دور تک کھڑکی کے رستے چاند کا پیچھا کیا تم تو اک پتھر گرا کر مسکرا کر چل دیے وقت کا ویران سینہ مدتوں گونجا کیا آہٹیں درانہ در آئیں سسکتی ہانپتی میں نے جب سنسان کمرے میں ترا چرچا کیا رات غم کی داستاں ہم بھی یہ مضطر سن سکے بات لمبی ہو گئی تھی، نیند نے غلبہ کیا (۱۹۵۸-۵۹ء)