اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 18 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 18

18 ہری بھری گلفام ہیں نیلی پیلی ہیں دل کے دیس کی پریاں رنگ رنگیلی ہیں بھنورے بن باسی کیوں بن کو چھوڑ گئے پھولوں کے خیمے چاک، طنابیں ڈھیلی ہیں خواہش کے خاموش پہاڑو! سانس نہ لو بادل کا دل بوجھل، پلکیں گیلی ہیں چاند پت جھڑ کے جاسوس چمن میں پھیل گئے چاند کا چہرہ زرد ہے، کلیاں پیلی ہیں کھلے، خورشید جلے، دل خون ہوئے منزل اوجھل ہے، راہیں چمکیلی ہیں کس کس کی تعمیل کروں، کس کی نہ کروں آنکھوں کے احکام بہت تفصیلی ہیں موت کے بعد تو لوگو! چین سے سونے دو خاک میں جا لیٹے ہیں، آنکھیں سی لی ہیں ساقی! صاف بتا دے کون سا جام پیوں آنکھیں امرت ہیں، زلفیں زہریلی ہیں مضطر ! اب طوفان میں جیسے جان نہیں دریا دھیما ہے، لہریں شرمیلی ہیں (۱۹۵۱،۵۲ء)