اشکوں کے چراغ — Page 532
532 آنکھ سے ٹپکا، لہو بن کر جلا اشک آخر اشک تھا، گھر گھر جلا شاہد معنی کو کر رو برو ہم نے دی اظہار کی چادر جلا راستے بھر روشنی ہوتی رہی ننگ محفل یادگار رفتگاں دل جلا ، جل کر بجھا ، بجھ کر جلا ہے اک پتنگا پر جلا معجزہ تھا آنکھ کی برسات کا رہ گیا دل کا دامن بھیگ کر بہتر جلا راہ چلتوں کو بھی ہو گا فائدہ کچھ دیے دیوار کے اوپر جلا بانٹ دے اس آتش سیال کو پھونک دے شہروں کو، گھر کے گھر جلا سحر باطل ہو گیا اک آن میں میرے جلتے ہی وہ جادوگر جلا ہم جلیں یا نہ جلیں اس سے غرض کیوں ہماری آگ میں مضطر جلا