اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 531 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 531

531 اوڑھ لینے کو بدن بھی ہو گا قبر بھی ہو گی ، کفن بھی ہو گا ہم درختوں سے گلے مل لیں گے ساتھ وہ رشک چمن بھی ہو گا ہم سے چھپنے کی بھی کوشش ہو گی ہم سے ملنے کا جتن بھی ہو گا عشق کی کوئی تو منزل ہو گی کوئی تو اس کا وطن بھی ہو گا کیا خبر تھی کہ دل آواره دار و رسن بھی ہو گا کوئی تو سمجھے گا مضطر کی زباں کوئی تو محرم فن بھی ہو گا