اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 493 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 493

493 مرے اندر لڑائی ہو رہی ہے مری مجھ سے جدائی ہو رہی ہے خدا خوش ہو رہا ہے آسماں پر خفا ساری خدائی ہو رہی ہے یہ کس کی آمد آمد ہے قفس میں دیکھو صفائی ہو رہی ہے جدھر کیسے ڈھونڈا کرو ہو آئنے میں یہ کس سے آشنائی ہو رہی ہے اُٹھاؤ بوریا بستر یہاں سے یہ محفل اب پرائی ہو رہی ہے مَعَاذَ الله ! قانوناً قفس میں مسلط پارسائی ہو رہی ہے فصیل شہر جاں پر ہر طرف سے چڑھائی پر چڑھائی ہو رہی ہے