اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 6 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 6

کھلتے کھلتے کھلے گا باب قبول عرض کر بار بار آدھی رات اپنے داتا کے در پہ آیا ہے ایک امیدوار آدھی رات ہوش و صبر و قرار کا دامن ہو گیا تار تار آدھی رات میری فریاد کا جواب تو دے بول اے کردگار! آدھی رات بے کسوں کو تری کریمی کا آ گیا اعتبار آدھی رات اشک در اشک جھلملانے لگا میرا قرب و جوار آدھی رات کس لیے بے قرار ہے مضطر کس کا ہے انتظار آدھی رات