اشکوں کے چراغ — Page 457
457 عشق کا جرم مرے نام لگایا جائے شرط یہ ہے کہ سر عام لگایا جائے کافر شہر ہوں، کافی ہے یہ عزت مجھ کو پہ اب اور نہ الزام لگایا جائے مجھ اپنی تعریف میں اچھی سی عبارت لکھ کر کوئی پتھر ہی سرِ بام لگایا جائے دلِ ناداں کا تقاضا ہے کہ گا ہے ما ہے اس کے ذمّے بھی کوئی کام لگایا جائے کہیں ایسا نہ ہو تم کو بھی یقیں آ جائے اب یہ نعرہ نہ سر عام لگایا جائے مصلحت کا یہ تقاضا ہے کہ دشت جاں میں کوئی خیمہ نہ سر شام لگایا جائے اب تو انجام نظر آنے لگا ہے اس کو اب نہ اندازہ انجام لگایا جائے میں اگر عہد کا سقراط نہیں ہوں مضطر! میرے ہونٹوں سے نہ یہ جام لگایا جائے