اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 456 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 456

456 ہر کوئی شہر بدر لگتا۔اب تو اس شہر سے ڈر لگتا ہے ہے دشت در آیا ہے گھر کے اندر دشت اب دشت نہ گھر لگتا ہے مل کے آیا ہے کسی منزل - ނ راسته خاک بسر لگتا ہے غم جاں کو بھی اُٹھا لے ہنس کر یہ ترا زادِ سفر لگتا ہے راہ چلتوں سے سنبھل کر ملنا ان په منزل کا اثر لگتا ہے صبح صادق ہے یا کوئی آنسو کچھ تو اے دیدہ تر! لگتا ہے کوئی گزرا نہ ہو منزل بن کر راسته زیر و زبر لگتا ہے اور بڑھ جاتی ہے لذت اس کی جب بار دگر لگتا زخم جب بار وہ جدھر ہاتھ اُٹھا دے شہر کا شہر ادھر لگتا مضطر ! ہے ہے