اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 453 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 453

453 آنسو تھے تو آنکھ کا زیور ہو جاتے سینے دھل جاتے ، چہرے تر ہو جاتے گھومنے پھرنے والے بے گھر بن باسی اپنے گھر میں رہ کر بے گھر ہو جاتے گھائل ہو جاتیں آوازیں لفظوں سے لفظ بھی ہوتے ہوتے بنجر ہو جاتے آتے جاتے رہتے دل کی محفل میں راہ میں جتنے موڑ تھے ازبر ہو جاتے سن لیتے فریاد اگر تصویروں کی تصویروں کے مومن کافر ہو جاتے آ جاتا سیلاب چمن میں خوشبو کا پھول اگر آپے سے باہر ہو جاتے کانٹوں پر چلنے میں کیا دشواری تھی چلتے تو چلنے کے خوگر ہو جاتے شہروں کی دیواریں خونِ ناحق سے ڈھل جاتیں تو شہر پوتر ہو جاتے مضطر ! ان کو نطق و بیاں کا اذن نہ تھا ورنہ آئینے پیغمبر ہو جاتے