اشکوں کے چراغ — Page 452
452 گھٹ کے مر گیا ترے اندر کا آدمی کیا اس کا خوں بہا بھی ہے؟ کوئی قصاص ہے؟ طول امل سے کچھ نہیں حاصل ہوا کبھی یہ وہ محل ہے ریت پہ جس کی اساس ہے چمٹا ہوا ہے ہر کوئی لمحوں کی لاش سے ماضی کی تلخیوں میں بھی کتنی مٹھاس ہے کوئی فصیل شہر کو اب پھاند کر نہ آئے یاروں کا شہریار سے یہ سے یہ التماس ہے تنہائیوں کو بھی نہیں تنہائیاں نصیب لگتا ہے کوئی دیکھنے والا بھی پاس ہے تو آئنے سے بات تو کر، سامنے تو آ اس کا نہ کر گلہ کہ وہ چہرہ شناس ہے جایا کروں ہوں بہرِ زیارت کبھی کبھی ماضی کا مقبرہ تو یہیں دل کے پاس ہے غالب کی سرزمین میں رکھا تھا کیوں قدم؟ مضطر! نہ تو کبیر ہے نے سورداس ہے (۱۹۵۸ء)