اشکوں کے چراغ — Page 448
448 وہی بن گیا مرجع خاص و عام جو اس کی گلی میں زیادہ گیا ہوس کی سواری گئی ساتھ ساتھ جہاں تک بدن کا برادہ گیا حسینوں کے انداز بدلے گئے وہ بت اس قدر تھا جو سادہ گیا میں خوش ہوں کہ مضطر ! قدم دو قدم قفس تک تو رستہ کشادہ گیا
by Other Authors
448 وہی بن گیا مرجع خاص و عام جو اس کی گلی میں زیادہ گیا ہوس کی سواری گئی ساتھ ساتھ جہاں تک بدن کا برادہ گیا حسینوں کے انداز بدلے گئے وہ بت اس قدر تھا جو سادہ گیا میں خوش ہوں کہ مضطر ! قدم دو قدم قفس تک تو رستہ کشادہ گیا