اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 449 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 449

449 یوں نہ مجبور کو مسند بٹھایا جائے فیصلہ تم نے جو لکھا ہے سُنایا جائے قتل ناحق کا اگر حکم سنایا جائے کچھ تو اس حکم کا مقصد بھی بتایا جائے کی عطا جس نے ہمیں اپنی غلامی کی سند اس کا احسان بھلا کیسے بھلایا جائے یوں سما جاتا ہے وہ روح میں لذت بن کر جیسے آئینے کے اندر کوئی سایہ جائے روز ہو جاتی ہے دربان سے نکر اپنی مقتل جاں میں بھی چپکے سے نہ جایا جائے اس کے انجام کو دیوار پہ چسپاں کر دو وہ اگر جاتا ہے تو بار خدایا جائے میرے ہمدرد نہ بن جائیں مرے ہمراہی میرے ماتھے پہ مرا غم نہ سجایا جائے