اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 447 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 447

447 جو لمحہ بھی اشکوں سے لادا گیا وہ آدھا رکا اور آدھا گیا وہ بادل جو گرجا تھا احساس کا برستا ہوا حسب وعدہ گیا وہ مجبور تھا اپنے حالات سے جدھر بھی گیا بے ارادہ گیا نہاں خانہ دل کا پردہ نشیں بھری بزم میں بے لبادہ گیا سلگتا ، سنورتا ، سنبھلتا ہوا یہ کس دیس کا شاہزادہ گیا پر وہ بیٹھا رہا دل کی دہلیز میں جس کے لیے جادہ جادہ گیا وہ خود بے حجابانہ آ کر ملا میں جب اس کے ہاں پا پیادہ گیا