اشکوں کے چراغ — Page 446
446 روح کے پتھر پکھل جانے بھی دے سوچ کو سانچوں میں ڈھل جانے بھی دے ان گلی کوچوں کو جل جانے بھی دے شہر کا نقشہ بدل جانے بھی دے اس قدر اکرام کی بارش نہ کر ہم فقیروں کو سنبھل جانے بھی دے آج میرا مجھ سے ہو گا سامنا یہ قیامت سر سے ٹل جانے بھی دے منجمد سورج ہوں آدھی رات کا میری برفوں کو پگھل جانے بھی دے آگ کی تطہیر ہو گی آگ سے خود بھی جل، مضطر کو جل جانے بھی دے