اشکوں کے چراغ — Page 421
421 اس کے دل میں اب بھی احساس زیاں کوئی نہ تھا وہ سمجھتا تھا کہ سر پر آسماں کوئی نہ تھا اس کا دعویٰ تھا کہ عہد عشق میں میرے بغیر اس کی تیغ ناز کے شایانِ شاں کوئی نہ تھا جھونک دی تھیں کشتیاں اس نے انا کی آگ میں اس کو اب اندیشہ سود و زیاں کوئی نہ تھا جل رہے تھے شہر اور دیہات اس کی آگ میں اس بت عیار سا آتش بیاں کوئی نہ تھا لفظ گونگے ہو گئے تھے آبرو کے خوف سے عفت آواز کا اب پاسباں کوئی نہ تھا روح تھی کانٹوں کی ننگی سیج پر لیٹی ہوئی جسم دھڑ دھڑ جل رہا تھا اور دھواں کوئی نہ تھا لوگ سرکاری مسلماں بن گئے تھے دفعہ اس نرالے فیصلے پر شادماں کوئی نہ تھا