اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 418 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 418

418 عدم آباد کو جانے والا آج جاتا ہے نہ کل جاتا ہے اس کے انجام سے مایوس نہ ہو آدمی گر کے سنبھل جاتا ہے رنگ یوں بزم کا بدلا مضطر ! جیسے نظارہ بدل جاتا ہے