اشکوں کے چراغ — Page 412
412 سپنے جو ہمیں ملنے کو آئے تھے سرِ شب گھر لوٹ کے ہنگام سحر کیوں نہیں جاتے امکان کی سرحد پہ کھڑے سوچ رہے ہو کیوں ڈرتے ہو تاحد نظر کیوں نہیں جاتے مضطر ! یہ گئے دور کے بیدار مسافر اب لوٹ کے آئے ہیں تو گھر کیوں نہیں جاتے
by Other Authors
412 سپنے جو ہمیں ملنے کو آئے تھے سرِ شب گھر لوٹ کے ہنگام سحر کیوں نہیں جاتے امکان کی سرحد پہ کھڑے سوچ رہے ہو کیوں ڈرتے ہو تاحد نظر کیوں نہیں جاتے مضطر ! یہ گئے دور کے بیدار مسافر اب لوٹ کے آئے ہیں تو گھر کیوں نہیں جاتے