اشکوں کے چراغ — Page 373
373 راہ کی روشنی، منزل کا اُجالا دینا کوئی تو ہجر کی شب اپنا حوالہ دینا غم جدا، غم کی علامات جدا لا دینا میری پہچان مجھے بہرِ خدا لا دینا تیری ہر دین پہ ہے تیرا حوالہ دینا جو بھی دینا ہے مجھے ارفع و اعلیٰ دینا لذت وصل سے پُر وصل پیالہ دینا کوئی فرقت کا نہ اب کوہ ہمالہ دینا میرے بچوں کی بھی خواہش ہے کہ تجھ کو دیکھیں ان چراغوں کو شب ہجر سنبھالا دینا آنکھ دی ہے تو اسے بخش دے بینائی بھی دل اگر دینا ہے تو چاہنے والا دینا میں کہ آواز کا سقراط ہوں میر مقتل میری آواز کو بھی زہر پیالہ دینا