اشکوں کے چراغ — Page 367
367 میں رکھنا، جان میں رکھنا اس کی خوشبو مکان میں رکھنا اس سے دیوانہ وار مل کر بھی فاصلہ درمیان میں رکھنا اس نے چوما ہے اُس کے قدموں کو یہ زمیں آسمان میں رکھنا دشت در دشت گھومنا پھرنا دل مگر قادیان میں رکھنا اس قدر بھی نہ ہم فقیروں کو معرض امتحان میں رکھنا اشک در اشک، سجده در سجده تیر کوئی کمان میں رکھنا راستوں سے بھی دوستی کرنا منزلوں کو بھی دھیان میں رکھنا