اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page xxxvii of 679

اشکوں کے چراغ — Page xxxvii

۳۴ فقیری میں شاہی کرتی ہوئی۔کبھی خاموشی کوصدا بناتی ہوئی کبھی صداؤں کو بے آواز کرتی ہوئی کیٹس (Keats) کے گریشن ارن (Greecion Urn) کی تمثال دار۔صاف گوئی میں اپنی مثال آپ۔مبالغہ بھی کرے تو حقیقت کا گمان گزرے۔کواکب کی طرح بازی گر۔میرے متعلق جو کچھ آپ نے لکھا اگر اپنے متعلق ہی سمجھ کر پڑھتا تو آپ کے شعروں کا کیا خاک لطف اٹھاتا۔میں تو غالب ہی کے اس مصرعہ میں ڈوبا رہتا۔اور میں وہ ہوں کہ گرجی میں کبھی غور کروں ونڈو شاپنگ کرتے ہوئے ان ملبوسات ہی سے لطف اندوز ہوتا رہا جو بے جان پیکروں کو بھی زینت بخشتے ہیں۔اسی تمنا میں جیتا اور مرتا ہوں اور یہی آپ میرے لیے دعا کیا کریں کہ دم نکلنے سے پہلے نفخ روح ہو جائے۔وہ دم نکلے جو پیش کرنے کے لائق ہو۔11۔11۔1989 چند ہفتے پہلے سہیل شوق صاحب کا وہ مقالہ پڑھنے کا لطف میسر آیا جو آپ کے بارہ میں تھا۔مختصر مگر جی لگتا تھا۔گو تمہید انہوں نے کچھ زیادہ ہی لمبی باندھی۔آپ کو کلاسیکی اساتذہ سے ملانے کے لیے اتنے پر بیچ راستہ کی کیا ضرورت تھی۔آپ کو تو لوگ گلی گلی جانتے ہیں گو پوری طرح نہ سہی۔”خطا کار بے ہنر کے طور پر نہ سہی ”خود دار غم شناس“ کے طور پر تو سبھی آپ کے شناسا ہیں۔آپ کا کلام ہمیشہ سے اچھا ہے مگر اب کچھ اور بھی اچھا ہو گیا ہے۔یہ وہ زمین تھی جو آسماں سے اتری تھی وہ حوالہ تھا جو بار بار دینا تھا