اشکوں کے چراغ — Page 322
322 ان خشک سالیوں کی کوئی انتہا بھی ہو بن میں جہاں جہاں تھی کلی سوچنے لگی مقتل میں بہر گفتگو آئی تھی زندگی جب گفتگو نہ آگے چلی ، سوچنے لگی سولی بھی اُس کو دیکھ کر کہنے لگی کہ یہ اللہ کا ہے کوئی ولی، سوچنے لگی حیران تھی زمین کہ اہل زمین نے چہروں پر کیوں بھبھوت ملی ، سوچنے لگی جب بھی گری زمین پر بچے کے ہاتھ سے مٹی کی چور چور ڈلی سوچنے لگی صورت جو انتظار کے ماتھے پہ ثبت تھی کیا جانے کیا محمد علی! سوچنے لگی