اشکوں کے چراغ — Page 311
311 صبح اندیشے، شام اندیشے بے وطن، بے مقام اندیشے روزمرہ کے عام اندیشے ہر قدم گام گام اندیشے یہ اگر ہیں تو ہم بھی ہیں، یعنی زندگی کا ہے نام اندیشے کیف اور درد عشق کا انعام عقل کا انتقام اندیشے عمر بھر ساتھ ساتھ چلتے ہیں خوش قدم، خوش خرام اندیشے بے غرض، بے زبان، بے صورت بے حقیقت سے، عام اندیشے کچھ شب وروز مصلحت کے اسیر اور کچھ بے لگام اندیشے بے نشاں ، بے زبان، بے آواز آئے بہر سلام اندیشے دل نادان سے خدا سمجھے کچھ بھی ہو، اس کا کام اندیشے کبھی مضطر غلام ہے ان کا کبھی اس کے غلام اندیشے