اشکوں کے چراغ — Page 300
300 ہم اکیلے ہیں بے حضور نہیں رہ کر بھی تجھ سے دور دور ره سے دور نہیں تیرے غم سے نڈھال ہیں ورنہ زندگی کا کسے شعور نہیں میری آنکھیں گناہگار سہی تیرے جلوے بھی بے قصور نہیں ہنس رہے ہیں چمن کی حالت پر پھول لمسن ہیں بے شعور نہیں جس سے پوچھو وہی فرشتہ ہے آدمی کوئی دور دور نہیں گل و گلشن اداس ہیں مضطر ! چشم نرگس میں جیسے نور نہیں