اشکوں کے چراغ — Page 299
299 Jab ہماری طرف نہ عدد کی طرف زمانہ ہے اک خوبرو کی طرف تو ان ابروؤں کے اشارے کو دیکھ نہ تک عزت و آبرو کی طرف خدا جانے کیوں عہدِ الزام میں بھی ہم ہیں جام و سبو کی طرف یہ سب رنگ و بو عارضی چیز ہے نہ جانا کبھی رنگ و بو کی طرف سے دیکھا کبھی آپ کو کبھی آپ کی گفتگو کی طرف نہیں فرق عشق و ہوس میں کوئی یہ پیاسی طرف ہے، وہ بھوکی طرف زمانے کی رفتار کو روک دے بڑھا ہاتھ جام و سبو کی طرف وہ وہ پھر چاند تاروں کی محفل سجی مضطر گیا آبجو کی طرف