اشکوں کے چراغ — Page 296
296 ہو و گئے ہم تو پاش پاش بہت کر ہماری نہ اب تلاش بہت اک تبھی تم ہو کیوں زمانے میں اور بھی تم سے ہوویں کاش! بہت بت پرستی کی تھی روایت بھی تم نے بت بھی لیے تراش بہت میری کشتی کے ڈوبنے کے بعد اس قدر بھی ہے ارتعاش بہت آرزو کو نہ گھور کر دیکھو آ نہ جائے اسے خراش بہت عقل ہی مستقل مریض نہیں دل بھی ہے صاحب فراش بہت شہر بیتی نہ پوچھیے مضطر ! یہ کہانی ہے دلخراش بہت