اشکوں کے چراغ — Page 278
278 نہیں پسند انھیں ڈھنگ اہل دنیا کے یہ وار سخت کریں اور بات سادہ کریں سلام بھیجا ہے کشمیر کے اسیروں نے قدم بڑھائیں، توقف نہ اب زیادہ کریں یہ مسجدیں ، یہ مقابر ، یہ بے کفن مقتول حضور داور محشر گلہ مبادا کریں نہ ہاتھ اٹھانے کی جرات ہو پھر کبھی اس کو کچھ اس ارادے سے دشمن کو بے ارادہ کریں بیادِ اہل وفائے چونڈہ و لاہور قدم قدم پر لڑیں، رقص جادہ جادہ کریں حضور خواجه بدر و حسنین بہر سلام لہو میں بھیگا ہوا زیب تن لبادہ کریں گزر رہے ہیں شہیدوں کے قافلے مضطر ! کریں تو ان سے ملاقات کا ارادہ کریں (۱۹۶۵ء)