اشکوں کے چراغ — Page 258
صاحب کردار بھی تھا 258 کیسے گزریں گے مجھے معلوم نہیں آہنی عزم وارادے کا دھنی تھا کتنا للہ الحمد کہ مالک کی رضا کے آگے مسکراتا ہوا، ہنستا ہوا سر تسلیم ہے خم واپس آیا اتنی فتوحات کے بعد وہ اگر خوش ہے وقف کا عہد نبھانے کے لیے تو میں بھی خوش ہوں خدمت دین کی ، درویشی کی خلعت پہنے اور یہ مرحلہ محرومی کا بصد بجز و نیاز آخر کار گزرجائے گا بخدا بیٹے ہی نہیں ہو میرے لیکن اے جان پدر! میرے محبوب بھی ہو نہیں میرے محبوب نہیں اک کٹھن مرحلہ اور بھی ہے یعنی وہ ما در مشفق تیری میرے محبوب کے محبوب کے بھی ہو صبر و تسلیم کی چادر اوڑھے زہے قسمت تیری یاد سینے سے لگائے ، خاموش زہے قسمت میری دم بخود ، مہر بلب بیٹھی ہے یہ سعادت تو نصیبوں سے ملا کرتی ہے اور پھر لیکن اے جان پدر! وہ عفیفہ ، مری بیٹی مری عزت یہ حقیقت ہے اگر ، تری جیون ساتھی یہ بھی تو ایک حقیقت ہے لٹ گیا جس کا سہاگ کہ یہ تنہائی کے لمحات اور وہ ننھے فرشتے چاروں کتنے لمبے ہیں ہو بہو باپ کی تصویر کٹھن بھی ہیں بہت ان کھلے غنچے