اشکوں کے چراغ — Page 232
232 ایک تو تھا، اک تری تصویر تھی درمیاں حائل کوئی پرده : تھا سے مجھ کو خطرہ تھا تو اپنے آپ غیر سے مجھ کو کوئی خطرہ نہ تھا منتظر بیٹھے تھے سب چھوٹے بڑے چاند چہرے کا ابھی نکلا نہ تھا اوڑھ لی تھی ہم نے چادر ذات کی عشق میں اس کے سوا چارہ نہ تھا تجھ کو ساری کیفیت معلوم تھی تو اگرچہ منہ سے کچھ کہتا نہ تھا مجھ کو تیری بندگی مطلوب تھی میں کسی انعام کا بھوکا نہ تھا تم تو مضطر! آپ رسوا ہو گئے اس قدر اصرار بھی اچھا نہ تھا