اشکوں کے چراغ — Page 207
207 پھر کسی سوچ نے گھونگھٹ کھولا دور اندھیرے میں کوئی پھر بولا پھر وہی دھیان کی منزل آئی روح رونے لگی، سینہ ڈولا کچھ فرشتے تھے جو آڑے آئے آدمی کوئی نہ ہنس کر بولا ہم نے میزان عدالت دیکھی مشتق تولا گیا تولہ تولہ یوں نہ ڈھل پائے گا دل کا دامن آنکھ کے پانی میں جا کر دھو لا رہ گئیں دل ہی میں دل کی باتیں زخم چلائے نہ آنسو بولا مضطر رات بھر روتا رہا ہے اس کو سینے سے لگا لے ڈھولا !