اشکوں کے چراغ — Page 203
203 اس فیصلے میں میرا اگر نام آئے گا تہمت لگے گی تم پہ بھی الزام آئے گا اس کو علامتوں کی ضرورت نہیں رہی اب کے وہ آئے گا تو سرِ عام آئے گا کب تک رہے گی خلق خدا اس کی منتظر کوئی تو آسمان سے پیغام آئے گا سائے کی طرح ہر کوئی دیوار گیر ہے وہ جائے گا تو خلق کو آرام آئے گا خوشبو پہن کے نکلی ہے آواز عہد کی لگتا ہے کوئی صاحب الہام آئے گا آواز آ رہی ہے یہی آسمان سے اب طائر زمیں نہ نہ دام آئے گا مجھ ہی سے اس کی خط و کتابت ہے آجکل آئے گا اس کا خط تو مرے نام آئے گا مضطر کو جلنے دیجیے فرقت کی آگ میں پتھر پگھل گیا تو کسی کام آئے گا