اشکوں کے چراغ — Page 202
202 زخم کریدو ، شور کرو ، فریاد کرو بنجر راتیں راتیں رو رو کر آباد کرو سرخ سنہری آگ جلاؤ اشکوں کی گھر بیٹھے سیر اسلام آباد کرو قاتل ہوں، مقتول بھی ہوں ،مقتل بھی ہوں حیثیت سے بولوں، ارشاد کرو ہم بھی پیارے! تیرے چاہنے والے ہیں آنکھ سے آنکھ ملاؤ، روح کو شاد کرو ناداں، نالائق ہے، عقل سے عاری ہے ہے،عقل عقل کے اندھو! مضطر کو استاد کرو