اشکوں کے چراغ — Page 201
201 ہر دید حضوری تو نہ ہووے اور دوری بھی دوری تو نہ ہووے کر سکتے ہیں بات مختصر بھی تمہید ضروری تو نہ ہووے کس طرح ادا ہو حرفِ مطلب تمہید ہی پوری تو نہ ہووے سیکھا نہیں جاتا عشق کا فن بات شعوری تو نہ ہووے مل جاتی ہے بے سبب بھی عزت «تقصیر» ضروری تو نہ ہووے ألفت ہے خود آپ اپنی منزل یہ چیز عبوری تو نہ ہووے کھل کر کرو بات ان سے مضطر! فریاد ادھوری تو نہ ہووے