اشکوں کے چراغ — Page 187
187 یار کو دیکھنے اغیار کا لشکر نکلا یار وہ شوخ نہ گھر سے کبھی باہر نکلا پاس مقتل کے مرے کوچۂ دلبر نکلا دار مجھے تھے جسے یار کا دفتر نکلا دشت پیمائی کی تکلیف اُٹھائی نہ گئی دشت پیمائی کا ساماں تو میٹر نکلا ذرے ذرے میں ملے گھومتے پھرتے سورج قطرے قطرے کو جو چیرا تو سمندر نکلا اس میں لذت بھی ہے تلخی بھی ہے تنہائی بھی ہجر کا دن تو شب وصل سے بہتر نکلا جیسے یہ آپ ہی خود اپنا تماشائی ہو چاند یوں رات سر شاخ صنوبر نکلا منزلوں پھیل گئی تیرے بدن کی نکہت راستہ تیری ہی خوشبو سے معطر نکلا